ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک حجاب معاملہ: سرکاری وکیل نے کہا؛ عرضی گذار تمام مسلم خواتین کو حجاب کا پابند بنانا چاہتے ہیں

کرناٹک حجاب معاملہ: سرکاری وکیل نے کہا؛ عرضی گذار تمام مسلم خواتین کو حجاب کا پابند بنانا چاہتے ہیں

Mon, 21 Feb 2022 20:46:52    S.O. News Service

بنگلورو 21 فروری (ایس او نیوز) کرناٹک ہائی کورٹ میں حجاب معاملہ کے ساتویں دن آج پیر دوپہرڈھائی بجے سے شام پانچ بجے تک ایڈوکیٹ جنرل نے حجاب کی مخالفت میں سرکار کی طرف سے دلائل پیش کئے، مگر شام پانچ بجنے تک بھی شنوائی ختم نہیں ہوئی تو اگلی شنوائی کل بروز منگل دوپہر ڈھائی بجے کے لئے ملتوی کردی گئی۔ 

 کرناٹک ہائی کورٹ کی سہ رکنی توسیعی بینچ جس میں چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس ڈکشت اور جسٹس قاضی زیب النساء محی الدین شامل ہیں، کے سامنے سرکاری موقف پیش کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل  پربھولنگ نے اپنا پورا زور اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش میں لگایا کہ حجاب اسلام کا ضروری مذہبی عمل نہیں ہے۔

اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے انہوں نے ایک  بے تکا موقف یہ پیش کیا کہ عدالت اگر حجاب کو ضروری قرار دیتی ہے تو پھر نہ صرف درخواست گزاروں کو بلکہ ہر مسلمان عورت کو بھی  حجاب کی پابندی کرنے ہو گی۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ حجاب کے حق میں عرضداشت دائر کرنے والے در اصل تمام مسلمانوں کو حجاب کا پابند بنانا چاہتے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل پربھولنگ نے کہا کہ حجاب کا معاملہ دراصل ایسا معاملہ نہیں ہے جہاں درخواست گزار اکیلے عدالت کے سامنے آئے ہوں۔ درحقیقت وہ مذہبی پابندی کا حصہ بنانے  کے لیے حجاب کو لاگو کرنے کا اعلان چاہتے ہیں۔ تاکہ ہر اس شخص کو اس کا پابند بنایا جاسکے جو مذہب اسلام کی پیروی کرتا ہے۔

یاد رہے کہ کرناٹک کے اُڈپی کی ایک ویمنس کالج سے شروع ہونے والا حجاب معاملہ نہ صرف پورے کرناٹک بلکہ پورے ملک میں موضوع بحث بناہوا ہے اور حجاب کا معاملہ عدالت میں جانے کے بعد اُس وقت مزید پیچیدہ ہوچکا ہے جب اسی  ماہ فروری کو کنداپور کی کالج میں بھی حجاب پر پابندی عائد کی گئی جس کے ساتھ ہی ریاست کے دیگر حصوں میں بھی باحجاب طالبات کے لئے کالجس کے دروازے بند کردئے گئے۔اتنا ہی نہیں بعض کالجس میں باحجاب لیکچررس کو بھی حجاب اُتارنے پر مجبور کیا گیا۔ ایسے میں ریاست کی مختلف کالجوں میں باحجاب طالبات نے احتجاج کرتے ہوئے نہ صرف کلاسس کا بائیکاٹ شروع کردیا بلکہ کالجس میں امتحانات شروع ہونے کے بعد طالبات نے امتحانات کی بھی پرواہ نہیں کی۔

ایڈوکیٹ جنرل نے پیر دوپہر کو عدالت کو بتایا کہ عرضٰ گذاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہر وہ عورت جو اسلامی عقیدے کی پیروی کرتی ہے اسے مذہبی اجازت کے مطابق حجاب پہننا ضروری ہے۔ سرکاری وکیل نے کہا، "میں تنقید کرنے والا کوئی نہیں ہوں، لیکن میں بڑی ذمہ داری کے ساتھ صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ درخواست گذار حجاب کو لے کر نہ صرف خود کو پابند کرنا چاہتے ہیں بلکہ تمام مسلم خواتین کو بھی پابند بنانا چاہتے ہیں۔

جیسا کہ ہرکوئی جانتا ہے کہ عرضی گذاروں کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ دیودت کامتھ نے کس طرح پوری مضبوطی کے ساتھ دلائل پیش کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ اسلام میں خواتین کے لئے حجاب ضروری مذہبی عمل ہے، لیکن یہاں سرکاری وکیل کاکہنا تھا کہ درخواست گذار اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے مواد پیش کرنے میں ہی ناکام رہے ہیں۔

نوادگی کا کہنا تھا کہ عرضی گذار نے قرآن کا حوالہ دیا ہے حالانکہ  جب بھی 'ضروری مذہبی عمل' قرار دینے کے لیے قرآن پر انحصار کیا گیا، سپریم کورٹ نے اس کی ہمیشہ نفی کی ہے،" ان کے مطابق "ضروری" مذہبی عمل سے متعلق قانون پر دلیل سپریم کورٹ پہلے ہی طے کر چکی ہے اور یہ کہ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 25 "ضروری" مذہبی عمل کو بیان نہیں کرتا ہے، یہ صرف مذہبی عمل کے بارے میں ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل پربھولنگ نوادگی نے توسیعی بینچ کو بتایا کہ "ضروری" مذہبی عمل سے متعلق قانون کو معزز سپریم کورٹ نے طے کیا ہے۔ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 25 "ضروری" مذہبی عمل کو بیان نہیں کرتا ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل اپنی پوری طاقت اپنے بے تکے دلائل کے ذریعے اس بات کو ثابت کرنے میں جھونکتے دکھائی دئے کہ حجاب ایک ضروری مذہبی عمل نہیں ہے اس لئے حجاب کو تعلیمی اداروں سے باہر رکھا جانا چاہئے۔

سرکاری وکیل کے مطابق دستور ساز اسمبلی میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا ایک بیان ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم مذہبی ہدایات کو تعلیمی اداروں کے باہر رکھیں، ان کے مطابق آرٹیکل 25 کے تحت صرف ضروری مذہبی عمل کو تحفظ حاصل ہے۔ جو شہریوں کو اپنی پسند کے عقیدے پر عمل کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے آرٹیکل 25 کے حصے کے طور پر "مذہب میں اصلاحات" کا بھی حوالہ دیا۔

    سرکاری وکیل کے مطابق عرضی گزاروں نے دعویٰ کیا ہے  کہ حجاب ایک ضروری مذہبی عمل ہے، تو پھر مذہبی رسومات بنیادی نوعیت کے ہونے چاہئیں ، جن پر عمل نہ کیا گیا تو مذہب بدل جائے گا۔ ان کے مطابق مذہب کا لازمی حصہ کا مطلب وہ بنیادی عقائد ہوتے ہیں جن پر مذہب کی بنیاد رکھی گئی ہو، ضروری مذہبی عمل کا مطلب وہ ہوتا ہے جو بنیادی عمل ہوں اور مذہبی عقیدے کی پیروی کرتا ہو۔ سرکاری وکیل غالبا یہ کہنا چاہتے تھے کہ بہت ساری خواتین حجاب نہیں پہنتی، اس حساب سے اُن کا کہنا تھا کہ حجاب نہ پہننے کی صورت میں وہ اسلام سے خارج نہیں ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ حجاب ضروری عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک اختیاری عمل ہے۔ 

آج جیسے ہی عدالتی کاروائی شروع ہوئی، چیف جسٹس ریتوراج اوستی نے سوال کیا کہ حجاب کے معاملے پر حکومت کا موقف کیا ہے۔ اداروں میں اس کے استعمال کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ اس کے جواب میں ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ حجاب کا انحصار حکومت نے اداروں پر چھوڑ دیا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر اداروں نے حجاب  کے استعمال کی اجازت دی تو کیا اس پر آپ کو کوئی اعتراض ہے؟ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اگر اداروں نے اجازت دی تو حکومت اس وقت فیصلہ لے گی جب معاملہ اس کے سامنے آۓ گا۔ چیف جسٹس نے اس پر برہمی ظاہر کرتے ہوۓ کہا کہ حکومت کو ایک واضح موقف اپنانا چاہئے ۔ چیف جسٹس نے یہ بھی سوال کیا کہ دیگر وکلاء کی طرف سے یہ مانگ کی گئی ہے کہ کالجوں کی طرف سے جو یونیفارم طے کیا گیا ہے مسلم طالبات کو اسی رنگ کا حجاب استعمال کرنے کی اجازت دی جاۓ۔ اس پر آپ کا موقف کیا ہے؟ چیف جسٹس نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر ان طالبات نے اس دو پٹہ کوہی سر پر اوڑھ لیا جو یونیفارم کا حصہ ہے، کیا اس کی اجازت دی جاسکتی ہے؟  ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ ان سوالات کا جواب یہ ہے کہ حکومت نے اس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ سرکاری حکم نامے میں اداروں کو یونیفارم کے متعلق فیصلہ کرنے کی مکمل خود مختاری دی گئی ہے۔ طالبات کو اپنا گھر یلولباس پہن کر آنا ہے یا اپنی مذہبی شناخت کا لباس پہن کر آنا ہے یا یونیفارم پہننا ہے، یہ اداروں پر ہے۔ جہاں تک ریاستی حکومت کا موقف ہے وہ یہ ہے کہ یونیفارم میں کسی مذہبی شناخت کو شامل نہ کیا جاۓ۔

چیف جسٹس نے اس مرحلے میں 5 فروری کو حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے حکم نامہ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کو روکا بھی جاسکتا تھا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے حکم نامہ کا دفاع کیا لیکن اس میں استعمال کی گئی زبان کوافسران کی مبالغہ آرائی قرار دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت نے حجاب پر پابندی نہیں لگائی ہے تو پھرعدالت آئین کی دفعہ 25 کے متعلق فیصلہ کیوں کرے؟ اس پرایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اس معاملے میں عدالت فیصلہ اس لئے کرے کہ اداروں کی رہنمائی ہو سکے۔ مزید کہا کہ عدالت کو صرف یہ طے کرنا ہے کہ حجاب کا استعمال مذہبی آزادی کا حصہ ہے یا نہیں ۔

شنوائی کے دوران ایڈوکیٹ جی آر موہن نے بتایا کہ چائلڈ رائٹس کمیشن سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ طالبات کو اپنا حجاب اتارنے کے لیے علیحدہ کمرہ فراہم کرے، اُنہیں  کھلی جگہ پرحجاب اُتارنے کے لئے نہ کہا جائے۔ یہاں تک کہ ٹیچروں اور لیکچروں کو حجاب اتارنے کو کہا جارہاے، جس پر روک لگائی جائے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ ہم اس کا خیال رکھیں گے۔  سرکاری وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ایڈووکیٹ محمد طاہر نے انہیں  ایک خط دیا ہے جس میں حکام کی طرف سے کچھ زیادتیوں کا الزام لگایا گیا ہے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ میں نے محکمہ تعلیم  اور پرنسپل سکریٹری سے اس تعلق سے بات چیت کی ہے اور جلد ہی ایک میٹنگ بلائی جائے گی۔

 


Share: